امریکا نے فلسطینی امداد بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا

امریکا نے ٹرمپ کے دور میں روکی گئی فلسطینی امداد بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جوبائیڈن انتظامیہ نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کی امداد بحال کرنے کا اعلان کیا ہے، اس امداد کو سابق امریکی صدر ٹرمپ نے 2018 میں بند کیا تھا جس کی وجہ سے فلسطینی مہاجرین کی امداد میں شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی کو انسانی امداد کی مد میں 150 ملین ڈالرز فراہم کرے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی یہ ریلیف ایجنسی صحت اور تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ کی پٹی پر 5.7 ملین فلسطینی مہاجرین کو امداد فراہم کرتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ کے لیے فلسطین کو مزید 75 ملین ڈالر کی معاشی اور ڈیولپمنٹ امداد فراہم کرنا چاہتا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہےکہ لبنان، اردن اور دیگر ممالک نے فلسطین کی امداد کی بحالی کے امریکی اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکی اعلان پر اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی کے کمشنر کا کہنا ہےکہ ہمیں اس سے زیادہ خوشی نہیں ہوسکتی کہ ہم ایک مرتبہ پھر امریکا کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں انتہائی بدحال مہاجرین کی مدد کرسکیں اور اپنے منشور کو پورا کرتے ہوئے روزانہ لاکھوں مہاجرین کو تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کریں۔ 

About Geo News

Geo News

Check Also

ساحل سمندر کی سیر کو جانے والی خاتون کس مشکل میں جا پھنسی؟ ویڈیو دیکھیں

بوسٹن: راستہ مختصر کرنے کی کوشش میں خاتون بڑی مشکل میں پھنس گئیں۔ غیر ملکی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے