تنخواہوں میں اضافے کیلئے احتجاجی ملازمین نے بلوچستان کی شاہراہیں بلاک کردیں

بلوچستان میں تنخواہوں میں اضافے کیلئے احتجاج کرنے والے ملازمین نے اپنے احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے قومی شاہراہیں بلاک کردیں۔

کوئٹہ کے ایدھی چوک پر پچھلے 8 روز سے بیٹھے صوبے کے سرکاری ملازمین کی کال پر لک پاس، قلات، حب، یارو، پشین، بارکھان اور ہرنائی سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں سرکاری ملازمین نے رکاوٹیں کھڑی کرکے قومی شاہرایں بند کردیں جس سے ٹریفک کی آمد ورفت معطل ہوگئی۔

 دالبندین، ڈیرہ اللہ یار، مستونگ،لک پاس،یارو، ڈیرہ مراد جمالی، حب، خاران، تفتان اور خضدار میں قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اورمسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب ایدھی چوک پر مطالبات کے حق میں 8 روز سے جاری ملازمین کے دھرنے اور روزانہ حکومت کے خلاف ریلی نکالنے سے شہر میں ٹریفک جام کی بدترین صورتحال نے شہریوں کی زندگی کو اجیرن کردیا ہے۔

شہر آنے اور جانے والے مریضوں، بوڑھے، بچوں اور خواتین کو ٹریفک جام ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت ملازمین کے مطالبات تسلیم کرے یا دھرنے پر بیٹھے ملازمین کو ان شاہراہوں سے ہٹائے۔

About Geo News

Geo News

Check Also

جسے اللہ رکھے، کچرے میں پڑے نومولود کی جان کیسے بچی؟ –

ریاض : بلدیہ کے صفائی عملے نے کچرے کے ڈرم سے ملنے والے نومولود کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے