دودھ کا استعمال شوگر کا سبب بن سکتا ہے؟

دودھ کا استعمال ذیابطیس کی قسم 1 کا سبب بن سکتا ہے۔

نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دودھ کا استعمال بالغان سمیت ادھیڑ عمری میں ذیابطیس ٹائپ 1 کا سبب بن رہا ہے۔

ذیابطیس ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟

ماہرین کے مطابق شوگر ٹائپ 1 کے لاحق ہونے کی بڑی وجہ جین قرار دی جاتی ہے، اس ٹائپ کو موروثی بیماری کہا جا سکتا ہے۔

 جبکہ ٹائپ 1 کے لاحق ہونے میں دیگر وجوہات میں ماحول، کھانے پینے کی عادات اور دودھ کا استعمال شامل ہے جو ذیابطیس ٹائپ 1 کا سبب بنتا ہے۔

طبی و غذائی ماہرین کے مطابق دودھ بھی کئی اقسام کا پایا جاتا ہے جسے اے 1 اور اے 2 میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

 شوگر ٹائپ 1 کے لاحق ہونے کا تعلق دودھ کے استعمال سے ہے اس کے تا حال مستند شواہد نہیں ملے ہیں مگر دودھ کی مختلف اقسام شوگر کے لاحق ہونے میں ایک بڑی وجہ بن سکتی ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق دودھ کی قسم کو ’ کیسین پروٹین‘ کی موجودگی کے سبب جانچا جا سکتا ہے کہ آیا دودھ کی قسم اے 1 ہے یا اے 2، دودھ کی قسم اے 2 یعنی کہ گائے کا دودھ صحت مند اور محفوظ قرار دیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کچھ ملکوں میں بھینسوں کا دودھ زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جس میں ’کیسین پروٹین‘ کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے اور دودھ کی قسم اے 1 ہوتی ہے۔

 دودھ کی قسم اے 1 کے استعمال کا تعلق شوگر کے لا حق ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دودھ کی قسم  اے 1 کا استعمال شوگر کے علاوہ متعدد بیماریوں جیسے کہ دماغی بیماری شیزوفرینیا اور آٹزم کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

ذیابطیس ٹائپ 1

طبی و غذائی ماہرین کی جانب سے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ مطابق ذیابطیس ٹائپ 1 شوگر کی ایک ایسی قسم ہے جو بچوں سمیت نوجوانوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے

ذیابطیس ٹائپ 1 میں انسانی جسم میں موجود لبلبہ بہت کم انسولین بناتا ہے یا پھر انسولین کی افزائش ہوتی ہی نہیں ہے۔

تاہم ذیابطیس کی ٹائپ 1، ذیابطیس ٹائپ 2 سے مختلف ہے اور یہ بچوں اور نوجوانوں کو بھی متاثر کرتی ہے جبکہ ٹائپ 2 بڑی عمر کے افراد کو زیادہ تعداد میں متاثر کرتی ہے۔

About Bol News

Avatar

Check Also

کسٹمز پریونٹیو نے 44 کروڑ مالیت کی اسمگل شدہ اشیا برآمد کرلیں

رواں ماہ انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت مختلف چھاپہ مار کارروائیاں کی گئیں۔ فوٹو: فائل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے