مریخ پر ڈھائی لاکھ انسانوں کا شہر

ہسپانوی کمپنی آبیبو اسٹوڈیو نے نووا شہر کا منصوبہ متعارف کرا دیا اور مریخ پر شہر بسانے کی تیاری شروع کر دی۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈھائی لاکھ شہریوں کو سرخ سیارے پر بسانے کے لیے گھروں کو پہاڑ کے پہلو میں افقی کی بجائے عمودی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

شہر کا یہ ڈیزائن ماحولیاتی دباؤ اور تابکاری کے اثر کو کم کرے گا۔

  کمپنی مریخ پر پائی جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی اور قدرتی وسائل سے گھروں کو تعمیر کرنے میں مدد لے گی۔

مریخ پر بنائے گئے اس شہر میں وہ تمام مقامات ہوں گے جو زمین پر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ گھر، دفاتر اور سبزازار وغیرہ تاہم اس بارے میں تحقیق ابھی باقی ہے کہ انسان کو وہاں کس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دلچسپ یہ ہے کہ اس شہر میں سبز رنگ کے گنبد تعمیر کیے جائیں گے جہیں سبزیاں اگانے کیلئے تجربات اور سیر تفریح کیلئے بھی استعمال کیا جائے گا۔

مریخ پر خوراک کے حصول کا اہم ذریعہ غلہ بانی ہوگا۔

زمین سے مریخ کے لیے شٹل سروس ہر 26 ماہ بعد چلے گی جو تین ماہ تک اپنا سفر جاری رکھے گی۔

مریخ پر جانے کیلئے یکطرفہ ٹکٹ کا کرایہ3 لاکھ ڈالر ہوسکتا ہے۔

تاہم 2054 تک مریخ پر تعمیراتی کام شروع ہونے کا امکان نہیں ہے اور وہاں آباد کاری2100 سے پہلے ممکن نہیں ہے۔

About Bol News

Avatar

Check Also

بچوں کے ڈیٹا کے غلط استعمال پر ٹِک ٹَاک کو اربوں پاؤنڈ جرمانے کا سامنا

ٹِک ٹَاک کا کہنا ہے کہ یہ کیس بنا کسی میرٹ کے بنایا گیا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے