مصر میں شاہی ممیوں کی عظیم الشان منتقلی

 شاہی خاندان کی باقیات کو نئے میوزیم تک پہنچانے کے لیے دریائے نیل کے اطراف کی سڑکوں کو بند کر دیا گیاتھا۔
فوٹو: اسکائی نیوز

قاہرہ: اہرام مصر، فرعون اور ممیوں سے جڑی اساطیر مصر کو ہمہ وقت خبروں کی زینت بنائے رکھتی ہیں، بات چاہے ایک چھوٹے سے اہرام کی ہو یا اس میں دفن مصری بادشاہ یا ملکہ کی، مصرکی حکومت آج بھی انہیں وہی شاہانہ پروٹوکول دیتی ہے جس سے وہ اپنی زندگی میں بھی لطف اندوز ہوتے رہے۔

مصر کے 18 بادشاہوں اور4 ملکاؤں کو تحریر اسکوائر کے مصری میوزیم سے نینشل میوزیم آف ایجپشین سویلائزیشن منتقل کیا گیا۔ کہنے کو تو یہ ایک معمول کی کارروائی تھی لیکن ان نوادرات کی منتقلی نے دیکھنے والوں کی آنکھیں چکاچوند کر دیں۔

گیارہویں سے سولہویں قبل مسیح تک حکم رانی کرنے ولے اس شاہی خاندان کی باقیات کو نئے میوزیم تک پہنچانے کے لیے دریائے نیل کے اطراف کی سڑکوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ میوزیم کے نکلنے سے پہلے ایک میوزیکل بینڈ نے دو رویہ کھڑے ہوکر انہیں سیلیوٹ پیش کیا۔

اس کے بعد قدیم مصری کنیزوں کے کپڑوں میں ملبوس لڑکیوں نے ہاتھوں میں خوبصورت تھال تھام کر دو رویہ قطار بنائی۔ سب سے پہلے کنگ راعمسیس پنجم کے کیپسول کو باہر لایا گیا، پھر ہر ممی کو اس کے عہدے کے لحاظ سے میوزیم سے روانہ کیا گیا۔

مصری ماہر آثار قدیمہ زاہی حواس کے مطابق ممیوں کو ان کی نئی آرام گاہ منتقلی اور بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے نائٹروجن سے بھرے خصوصی کیپسول تیار کیے گئے۔ ان کیپسول کو مستحکم رکھنے کےلیے سنہرے رنگ کی خصوصی گاڑیاں بھی تیار کی گئیں۔

زاہی حواس کا کہنا ہے کہ ’یہ ممیاں اسی شان و شوکت کی حق دار ہیں، یہ مصر کے بادشاہ تھے اور اسی لیے ہم نے ان کی منتقلی کی تقریب کو پورے کروفر کے ساتھ ادا کیا، ہم دنیا کو ایک مہذب اور تعلیم یافتہ طریقے سے اپنے بادشاہوں کو دکھانا چاہتے تھے‘۔

About Express News

Avatar

Check Also

رمضان المبارک کا احترام پامال نہ کریں

رمضان المبارک کی آمد تھی کورونا نے ایک بار پھر زور پکڑا ہوا تھا۔ کراچی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے