کراچی سیف سٹی پروجیکٹ 6 سال سے التوا کا شکار

ہزاروں کیمروں کی تنصیب نہ ہوسکی،تاخیر ہوئی ہے ،ڈیٹاکی حفاظت کیلیے این آرٹی سی سے معاہدہ کیا،مرتضیٰ وہاب

 کراچی:  ملک کے معاشی حب کراچی میں سیف سٹی پروجیکٹ 6 سال سے التوا کا شکار ہے ، منصوبہ محض اجلاسوں تک ہی محدود ہوکر رہ گیا، سیف سٹی منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے اب تک لاتعداد اجلاس ہوچکے ہیں لیکن منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا منصوبے کی لاگت 10 ارب سے بڑھ کر 30 ارب کے قریب پہنچ چکی ہے ، ملک کے دیگر شہروں میں سیف سٹی کے منصوبہ کامیابی سے مکمل کرلیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دنیا کے 10 بڑے شہروں میں شمار ہونے والے شہر کراچی میں سیف سٹی منصوبے کا آغاز سال 2015 میں ہوا جس کے تحت شہر بھر میں 10 ہزار کیمرے لگائے جانے تھے جبکہ اس کے علاوہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بھی جدید سیکیورٹی فیچر سے آراستہ کرنی تھیں، منصوبے کی ابتدائی طور پر لاگت 10 ارب روپے لگائی گئی تھی جوکہ اب تاخیر اور وقت گزرنے کے بعد بڑھ کر 30 ارب روپے کے قریب پہنچ چکی ہے۔

سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر بھر میں ہزاروں کیمروں کی تنصیب کے علاوہ گاڑیوں کی روایتی پیلی نمبر پلیٹس سے جدید نمبر پلیٹس میں تبدیل کی جانی تھیں جوکہ سیکیورٹی فیچر (آر ایف آئی ڈی) سے لیس ہوتیں یہ نمبر پلیٹس کیمرا ریڈایبل ہوتیں اور انھیں باآسانی اسکین کرکے تمام تر ڈیٹا حاصل کیا جاسکتا تھا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ ایکسائز کی ٹیکس کلیکشن بھی اسی نمبر پلیٹ کے ذریعے کی جانی تھی سیکیورٹی فیچر نمبر پلیٹس کے لیے کئی بار ٹینڈرز جاری کیے جاچکے ہیں، دسمبر 2012 سے اکتوبر 2019 تک متعدد بار ٹینڈر جاری کیے گئے لیکن کبھی بھی منصوبے کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو روایتی پیلی نمبر پلیٹ فراہم کرنے والی نجی کمپنی بھی اس منصوبے کی تکمیل میں روڑے اٹکارہی ہے مذکورہ کمپنی کبھی عدالت سے اسٹے آرڈر لے لیتی اور کبھی مبینہ طور پر محکمہ ایکسائز کے افسران سے ساز باز کرلیتی ہے ، سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت کیمروں کے ذریعے شہر کے چپے چپے پر نگاہ رکھی جاتی اسی منصوبے میں ون ونڈو آپریشن کے تحت ایک ہیلپ لائن نمبر جاری کیا جانا تھا جس میں سوئی گیس، کے الیکٹرک ، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور پولیس کی مدد کے ساتھ ساتھ تمام تر یوٹیلٹی مسائل کی شکایت درج کرائی جانی تھیں۔

روشنیوں کے شہر کراچی میں سیف سٹی پروجیکٹ اب تک پورا ہونا تو درکنار عملی طور پر شروع بھی نہ ہوسکا اربوں روپے کا منصوبہ صرف کاغذات اور میٹنگوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے جس کا خمیازہ حکومت کو نہ صرف اس کی بڑھتی ہوئی تخمینی لاگت سے بھگتنا پڑرہا ہے۔ دریں اثنا ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے سندھ سیف سٹی اتھارٹی کے قیام کے ساتھ ہی این آر ٹی سی کے ساتھ معاہدہ بھی کرچکے ہیں۔

این آر ٹی سی کے ساتھ معاہدہ کرنے کا مقصد ڈیٹا کو محفوظ بنانا ہے کیونکہ وہ جو ڈیٹا شیئرنگ ہوگی وہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہی رہے گی، مرتضیٰ وہاب نے مزید بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمروں میں چہروں کی شناسی، گاڑیوں کے نمبرز کی پہچان اور اس کی ویری فکیشن کا بھی نظام ہوگا، پائلٹ پروجیکٹ آئندہ چند ماہ میں مکمل ہوجائے گا، منصوبے کے ابتدائی مراحل مکمل کیے جاچکے ہیں، کیمروں کی تنصیب کے پوائنٹس کو بھی حتمی شکل دی جاچکی،ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچے ۔

About Express News

Avatar

Check Also

پاکستان اور ایران کے درمیان اہم یادداشتوں پر دستخط –

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارتی مراکز کھولنے سے متعلق یادداشتوں پر دستخط کر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے