کورونا وبا کے دوران روزہ رکھنا ہر طرح سے محفوظ عمل ہے، برطانوی تحقیق

برطانوی تحقیق کے مطابق رمضان کا مہینہ کورونا وبا کے دوران کسی اضافے کی وجہ نہیں بنتا (فوٹو: فائل)

 لندن: برطانوی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ کووڈ 19 وبا کے دوران روزہ رکھنا ہر طرح سے محفوظ عمل ہے۔

گلوبل ہیلتھ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس کورونا کی شدید وبا کے دوران روزہ رکھنے سے ہلاکتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا اور اس طرح وبا کے دوران روزہ رکھنا ہر طرح سے مفید ہے۔

جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روزے اور کورونا وبا کے درمیان ہلاکتوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس طرح برطانیہ میں تیس لاکھ اور دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس سال ماہِ صیام کے روزے رکھیں گے۔

رپورٹ میں ماہرین نے لکھا کہ ’’ہماری تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ رمضان کے دوران معمولات اور کووڈ 19 کی اموات کے درمیان کوئی تعلق نہیں دیکھا گیا ہے‘‘۔

قبل ازیں برطانیہ میں بہت بحث جاری تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بعض اقلیتوں کے رویوں اور ان کی مذہبی رسومات عوامی ملاپ بڑھاتی ہیں اور یوں کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بعض ماہرین نے یہ بھی کہا تھا کہ رمضان اور عید میں کووڈ 19 کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔

اس تحقیق میں گزشتہ برس 23 اپریل کو شروع ہونے والے ماہِ رمضان میں تمام معاملات کا بغور جائزہ لیا گیا کیونکہ اس سے کچھ دنوں بعد ہی برطانیہ میں وبا کی پہلی لہر زور پکڑ گئی تھی۔ تاہم مساجد میں اجتماعات اور نمازیں منسوخ کردی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ ایسے علاقوں کا جائزہ بھی لیا گیا جہاں مسلمانوں کی آبادی 20 فیصد یا اس سے زائد تھی۔

حیرت انگیز طور پر رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ جوں ہی رمضان آیا برطانوی مسلم علاقوں میں اموات کی شرح تیزی سے کم ہوئی اور یہ سلسلہ پورے ماہ جاری رہا یہاں تک کہ رمضان ختم ہونے کے بعد بھی یہ رجحان جاری رہا اور اس طرح کہا جاسکتا ہے رمضان اور اس سے وابستہ عبادات اور کورونا وبا کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔

تحقیق میں شامل ماہر سلمان وقار نے کہا کہ بعض برطانوی سیاست دانوں اور عوامی افراد نے الزام عائد کیا تھا کہ  گزشتہ برس بعض برادریاں بالخصوص مسلمان وبا میں اضافے کی ذمے دار ہیں حالاںکہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔

مسلم کونسل آف برٹن (ایم سی بی) نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ ان منفی تاثرات کی نفی کرتی ہے جس کا پروپیگنڈا انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں اور سیاسی دھڑوں نے کیا ہے، ایسی جماعتوں کا بار بار اصرار تھا کہ 2020ء میں مسلمانوں نے لاک ڈاؤن توڑا اور وبا میں تیزی کی وجہ بنے، یہ الزامات تعصب پر مبنی ہیں جن میں مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔

About Express News

Avatar

Check Also

خون جمنے کے ڈر سے کوروناویکسین نہ لگوانے والے شخص کے ساتھ کیا ہوا؟

امسٹرڈم: نیدرلینڈز میں خون جمنے کے ڈر سے کورونا ویکسین لگوانے سے انکار کرنے والا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے